Thursday, February 11, 2010
New CPLC Karachi Chief: Ahmed Chinoy
Saturday, November 14, 2009
Over Crowding in Karachi Jail پر ہجوم کراچی جیل اور امراض
کراچی(رپورٹ:نادر خان) سندھ بھر کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھنے ‘ گندے پانی کا استعمال اور علاج کی سہولتیں نہ ہونے کے باعث جلدی امراض پھوٹ پڑے‘ سینٹرل میں قیدی سب سے زیادہ متاثر ہوئے‘ اعلیٰ حکام کا سہولتیں فراہم کرنے سے گریز۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت نے سندھ کی 20جیلوں میں قائم اسپتال و ڈسپنریوں کو4ماہ قبل قیدیوں کو علاج کی سہولتوں کے لیے بہترین انتظامات فراہم کرنے اور ایک خود مختار میڈیکل بورڈ کے قیام کے احکامات جاری کیے تھے جبکہ جیل میں موجود اسپتال کے چیف میڈیکل افسر کو ہدایت کی تھی کہ ماہر نفسیات ‘ ماہر جلد ی امراض ‘ ای این ٹی اسپشلسٹ اور ماہر امراض قلب کے ڈاکٹرز روزانہ بنیاد پر متعلقہ جیلوں کا دورہ کریں اور رپورٹ مرتب کر کے محکمہ صحت کو ارسال کی جائے۔ اس ضمن میں نمائندہ جسارت کے سینٹرل جیل کراچی میں سروے کرنے پر معلوم ہوا کہ جیل میں موجود اسپتال و ڈسپنسری میں سب سے زیادہ تعداد جلدی امراض میں مبتلا قیدیوں کی ہے۔ جیل ذرائع کے مطابق جلدی امراض میں مبتلا زیادہ تعداد ایسے قیدیوں کی ہے جو جیل انتظامیہ کو رشوت نہیں دے سکتے۔ذرائع کے مزید بتایا کہ سینٹرل جیل میں2ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے تاہم اس وقت7ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں اور کبھی تعداد اس سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔سینٹرل جیل کے ڈاکٹر نے بتایا کہ جلدی امراض کمرے میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھنے پر پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جیل میں موجودہ صفائی کے نظام اور پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی سے بھی بیماریاںپھیل رہی ہیں۔جسارت سروے کے مطابق لانڈھی جیل انتظامیہ نے بتایا کہ جیل میں 1200 قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ جمعہ 13نومبر کو جیل میں موجود قیدیوں کی تعداد 2850تھی۔ لانڈھی جیل ذرائع کے مطابق جیل کے اندر جلدی امراض میں مبتلا قیدی زیادہ ہیں اس وجہ سے بیماری پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔
Thursday, November 5, 2009
Karachi Central Jail Land of Corruption کراچی سنٹرل جیل کرپشن کی سرزمین
کراچی (رپورٹ: نادر خان) جیل میں قیدیوں کو سانس لینے کا بھی جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ لاکھوں روپے کی وصولی کے لیے قیدیوں پر تشدد کے واقعات بڑھ گئے۔ تشدد کے باوجود رقم نہ دینے والے کو برہنہ کردیا جاتا ہے۔ ٹاور انچارج اعلیٰ حکام کی جانب سے وصولی کا نگراں مقرر ہے۔ ذرائع کے مطابق سینٹرل جیل کراچی کی26 بیرکوں‘29 کھولیوں‘ 13 وارڈوں اور اسپتال کے 3 علیحدہ وارڈوں میں 10 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں جن میں سیاسی قیدیوں کے علاوہ عام قیدیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ جیل کے اندر آنے والے نئے قیدی کو جیل حدود میں داخل ہونے سے لے کر اپنی بیرک تک جانے اور تشدد سے بچنے کے لیے 3 ہزار روپے ادا کرنے پڑتے ہیں اور رقم نہ دینے کی صورت میں نئے آنے والے قیدی کا خیر مقدم تشدد سے کیا جاتا ہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تشدد ہونے کے بعد بھی اگر قیدی مطلوبہ رقم ادا نہیں کرتا تو ایسے قیدی کو برہنہ کرکے بٹھا دیا جاتا ہے اور پھر اس قیدی پر تشدد کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ نئے قیدی کی جیل آمد کے بعد اور اس پر لگی فرد جرم اور نام کے اندراج کے لیے جیل کی حدود میں قائم ٹاور انچارج کے علاوہ 3 سپاہی اور ایک منشی ہوتا ہے جو نئے قیدی کا اندراج کرتا ہے اور یہاں آنے والے قیدی سے رقم طلب کی جاتی ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ جیل میں موجود کھولی کو حاصل کرنے کے لیے 25 ہزار روپے کی رقم ادا کرنا پڑتی ہے اور قیدی کو اگر ایک بیرک سے دوسری بیرک جانا ہوتا ہے تو وہاں موجود اہلکار قیدی سے 2 سو روپے طلب کرتا ہے اور رقم نہ ادا کرنے کی صورت میں اسے روک لیا جاتا ہے جبکہ جیل کے اندر موجود نیو جیل میں فی قیدی کو 2 ہزارکی رقم ادا کرنا پڑتی ہے اور اس عمل کے لیے قیدی کو نیو جیل کی رقم کے علاوہ 3 ہزار روپے علیحدہ سے دینے پڑتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ جیل میں صبح کے اوقات میں قیدیوں کو ٹوٹل کے لیے لایا جاتا ہے اس کے بعد انہیں مختلف جگہوں پر مشقت کے لیے منتقل کیا جاتا ہے جہاں ان سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے اس مشقت اور تشدد سے بچنے کے لیے قیدی کو 10 ہزار روپے تک کی رقم ادا کرنا ہوتی ہے اوریہ رقم قیدی کی حیثیت دیکھ کرلی جاتی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ جیل کے اندر اس رقم کی وصولی کے لیے ٹاور انچارج کو نگراں مقرر کیا گیا ہے۔جیل میں موجود اسپتال کے الشفاءوارڈ میں 70 بستر موجود ہیں جہاں مریض داخل نہیں ہوتے وہاں جو قیدی آرام کے لیے آتے ہیں ان کو 3 ہزار کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے اور جس دن اسپتال میں محکمہ صحت کی ٹیم کا دورہ ہوتا ہے اس دن عام قیدیوں کو اسپتال سے بیرک منتقل کرکے بیرک میں موجود مریضوں کو اسپتال منتقل کردیا جاتا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ تشدد اور برہنہ کرنے کے باوجود رقم ادا نہ کرنے والے کو سزاکے طور پر 7-B بیرک میں منتقل کیا جاتا ہے۔
Tuesday, October 27, 2009
Mobile Phones Records - Verify Yours by sending SMS to 668
And see who is using your CNIC to get Mobile SIMS !
In case of any problem, contact your Mobile Phone Providers offices,
Nadra introduces CNIC verification through SMS - 7000
Nadra introduces CNIC verification through SMS
Tuesday, October 20, 2009
Blood from a leech used to identify robbery suspect in Australia
In what is believed to be a world first, the leech was found shortly after officers arrived a the rural property in Tasmania, whose elderly resident had been robbed by two men.
The leech was the only piece of evidence found during a full forensic examination of the house, Detective Inspector Mick Johnston said, and officers decided to take a DNA profile from the blood inside it.
"As there was no evidence of any leech bites from the victims or the police present we thought it was a good chance to have come from one of the offenders," he told the Hobart Mercury.
"We took it from the scene because it didn't belong there."
Seven years later, the blood was found to match that of Peter Alec Cannon, who had been arrested and charged with drug offences.
Cannon, 54, pleaded guilty in court to the 2001 aggravated armed robbery.
Crown prosecutor John Ransom said: "the leech was found next to the safe and it had this man's blood in it."
He said that Cannon and another man, who has not been caught, went to the bushland home of Fay Olson, 71, wearing black hoods and carrying sticks.
The men ransacked the house stole $550. The men tied her up and put a belt around her ankles.
Mr Ransom said that senior constable Nathan Slater had located the leech next to the bed and handed it to Detective Inspector Johnston when doing the forensic examination of the scene.
Detective Inspector Johnston said he had never heard of a leech being involved in a crime scene before.
"It is the oddest way of convicting anyone I have ever been involved in".
"I have not been able to find any similar cases anywhere in the world - nothing like this at all."
